बिजली इक कौंद गई आँखों के आगे तो क्या
बात करते कि मैं लब-तिश्ना-ए-तक़रीर भी था
“What good was it if lightning flashed before my eyes?You should have spoken, for I, too, was athirst for discourse.”
— مرزا غالب
معنی
بجلی کا آنکھوں کے آگے ایک پل کے لیے چمک کر غائب ہو جانا کس کام کا تھا؟ آپ کو بات کرنی چاہیے تھی، کیونکہ میں بھی گفتگو کا پیاسا تھا۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
