غزل
ہے بزم بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے
ہے بزم بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے
اس غزل میں شاعر بزمِ بتاں کی بناوٹ اور خوشامد پسندی سے اپنی بیزاری اور اکتاہٹ کا اظہار کرتا ہے۔ رنجیدہ لبوں کے ساتھ وہ ریاکارانہ رسوم کو ترک کر کے بے باک خلوص اور مکمل بے خودی کی تمنا کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →نغمہ سنیں
1
है बज़्म-ए-बुताँ में सुख़न आज़ुर्दा-लबों से
तंग आए हैं हम ऐसे ख़ुशामद-तलबों से
ہے بزم بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے
تنگ آئے ہیں ہم ایسے خوشامد طلبوں سے
محبوبوں کی محفل میں بات ناراض ہونٹوں سے نکلتی ہے، ہم ایسے خوشامد پسند لوگوں سے تنگ آ چکے ہیں۔
2
है दौर-ए-क़दह वज्ह-ए-परेशानी-ए-सहबा
यक-बार लगा दो ख़ुम-ए-मय मेरे लबों से
ہے دور قدح وجہ پریشانی صہبا
یک بار لگا دو خم مے میرے لبوں سے
جام کا بار بار گردش کرنا شراب کی بے چینی کا باعث ہے، اس لیے شراب کا پورا مٹکا ایک ہی بار میرے ہونٹوں سے لگا دو۔
3
रिंदाना-ए-दर-ए-मय-कदा गुस्ताख़ हैं ज़ाहिद
ज़िन्हार न होना तरफ़ इन बे-अदबों से
رندان در مے کدہ گستاخ ہیں زاہد
زنہار نہ ہونا طرف ان بے ادبوں سے
اے زاہد! مے خانے کے دروازے پر موجود شرابی بڑے گستاخ ہیں، خبردار تم ان بے ادبوں سے کبھی نہ الجھنا۔
4
बेदाद-ए-वफ़ा देख कि जाती रही आख़िर
हर-चंद मिरी जान को था रब्त लबों से
بیداد وفا دیکھ کہ جاتی رہی آخر
ہر چند مری جان کو تھا ربط لبوں سے
وفا کا ستم تو دیکھو کہ بالآخر میری جان رخصت ہو ہی گئی، حالانکہ میری روح لبوں پر آ کر اٹکی ہوئی تھی اور نکلنے کو تیار نہ تھی۔
5
क्या पूछे है बर-ख़ुद ग़लती-हा-ए-अज़ीज़ाँ
ख़्वारी को भी इक आर है अआली-नसबों से
کیا پوچھے ہے بر خود غلطیہائے عزیزاں
خواری کو بھی اک عار ہے عالی نسبوں سے
عزیزوں کی خود پسندی اور غلط فہمیوں کا کیا پوچھنا، ذلت اور رسوائی کو بھی ان اونچے نسب والوں سے شرم آتی ہے۔
6
गो तुम को रज़ा-जूई-ए-अग़्यार है लेकिन
जाती है मुलाक़ात कब ऐसे सबबों से
گو تم کو رضا جوئی اغیار ہے لیکن
جاتی ہے ملاقات کب ایسے سببوں سے
اگرچہ تم غیروں کی خوشنودی چاہتے ہو، لیکن کیا ایسی وجوہات اور بہانوں سے باہمی ملاقاتیں ختم ہوا کرتی ہیں؟
7
मत पूछ 'असद' वअ'दा-ए-कम-फ़ुर्सती-ए-ज़ीस्त
दो दिन भी जो काटे तू क़यामत तअबों से
مت پوچھ اسدؔ وعدۂ کم فرصتیٔ زیست
دو دن بھی جو کاٹے تو قیامت تعبوں سے
اے اسد، زندگی کی مختصر مہلت کے بارے میں مت پوچھ، جو دو دن بھی ہم نے کاٹے وہ بے پناہ مصیبتوں اور شدید تکلیفوں میں گزرے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
