“Why ask of the vain delusions of these cherished peers? / Even humiliation feels ashamed to touch the noble-born.”
عزیزوں کی خود پسندی اور غلط فہمیوں کا کیا پوچھنا، ذلت اور رسوائی کو بھی ان اونچے نسب والوں سے شرم آتی ہے۔
غالب اس شعر میں عالی نسب طبقے کے کھوکھلے غرور اور خوش فہمیوں پر نہایت کاٹ دار اور پرلطف طنز کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ زوال کے باوجود ان نام نہاد معززین کی خود فریبی کا یہ عالم ہے کہ خواری اور رسوائی کو بھی ان سے منسوب ہوتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔ یہ خاندانی وقار کے جھوٹے زعم میں مبتلا ایسے لوگوں کا آئینہ ہے جن کے پاس کردار کے نام پر کچھ نہیں بچا، بس ایک پرانا نام رہ گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
