“The revelers at the tavern door are brazen, O ascetic; beware, do not ever cross paths with these insolent ones!”
اے زاہد! مے خانے کے دروازے پر موجود شرابی بڑے گستاخ ہیں، خبردار تم ان بے ادبوں سے کبھی نہ الجھنا۔
اس شعر میں شاعر بڑے دل چسپ اور طنزیہ پیرائے میں زاہد کو خبردار کر رہا ہے کہ مے خانے کے آزاد منش رندوں کے منہ نہ لگے۔ یہ بادہ خوار دنیاوی رکھ رکھاؤ اور دکھاوے کی پارسائی سے بے نیاز ہو چکے ہیں، اس لیے وہ زاہد کے نام نہاد تقدس کا بھرم ایک لمحے میں توڑ دیں گے۔ بظاہر تو یہ ایک انتباہ ہے، مگر درحقیقت اس میں ریاکار زاہد کی کمزوری اور رندوں کی بے باک سچائی کو بڑی خوبصورتی سے سراہا گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
