مت پوچھ اسدؔ وعدۂ کم فرصتیٔ زیست دو دن بھی جو کاٹے تو قیامت تعبوں سے

“Ask not, Asad, of life's brief, promised span; even those two fleeting days were lived through doomsday's endless agony.”

— مرزا غالب
معنی

اے اسد، زندگی کی مختصر مہلت کے بارے میں مت پوچھ، جو دو دن بھی ہم نے کاٹے وہ بے پناہ مصیبتوں اور شدید تکلیفوں میں گزرے۔

تشریح

ہم اکثر سنتے ہیں کہ زندگی چار دن کی ہے، مگر غالبؔ اس تسلی کے پیچھے چھپے المیے کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ زندگی کے مختصر ہونے کا شکوہ کیا کریں، کیونکہ یہ دو دن بھی اتنی مصیبتوں اور آزمائشوں میں بیتے ہیں کہ ہر لمحہ قیامت بن کر گزرا۔ اس شعر کا اصل حسن وقت اور درد کے اس تضاد میں ہے کہ عمر چاہے کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، رنج و الم کے بوجھ نے اس کے ہر پل کو ایک طویل عذاب بنا دیا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.