بیداد وفا دیکھ کہ جاتی رہی آخر ہر چند مری جان کو تھا ربط لبوں سے

“Behold fidelity's cruel tyranny, for life slipped away at last, / Though desperately my lingering soul had clung unto my lips.”

— مرزا غالب
معنی

وفا کا ستم تو دیکھو کہ بالآخر میری جان رخصت ہو ہی گئی، حالانکہ میری روح لبوں پر آ کر اٹکی ہوئی تھی اور نکلنے کو تیار نہ تھی۔

تشریح

شاعر نے اس شعر میں وفاداری کے راستے میں ملنے والے دکھ اور لاچاری کو نہایت دلکش پیرائے میں بیان کیا ہے۔ محاورہ ہے 'جان لبوں پر آنا'، یعنی موت کے دہانے پر بھی محبوب کی ایک جھلک یا امید کے سہارے سانسوں کا اٹکے رہنا۔ عاشق کہتا ہے کہ وفا کے صلے کی امید میں جان ہونٹوں پر آ کر آخری دم تک ٹھہری رہی، مگر عشق کا ستم تو دیکھیے کہ بالآخر وہ رشتہ بھی ٹوٹ گیا اور زندگی رخصت ہو گئی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.