“In the gathering of idols, speech parts only from sullen lips; we have grown weary of such seekers of ceaseless flattery.”
محبوبوں کی محفل میں بات ناراض ہونٹوں سے نکلتی ہے، ہم ایسے خوشامد پسند لوگوں سے تنگ آ چکے ہیں۔
شاعر یہاں مغرور حسینوں اور بااثر لوگوں کی اس محفل کا منظر دکھا رہے ہیں جہاں لوگ بتوں کی طرح بے نیاز بیٹھے ہیں اور بات کرنے کے لیے بھی جھوٹی تعریف کے طلب گار ہیں۔ ان کے ہونٹوں سے کلام تبھی نکلتا ہے جب ان کی انا کو سراہا جائے، ورنہ وہ بیزار اور خفا ہی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ شعر دراصل منافقت اور خوشامد پرستی کے ماحول سے ایک سچے اور خوددار انسان کی دلی بیزاری کا اظہار ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
