“Though you seek to please the rivals, yet tell me: does our meeting ever cease on pretexts such as these?”
اگرچہ تم غیروں کی خوشنودی چاہتے ہو، لیکن کیا ایسی وجوہات اور بہانوں سے باہمی ملاقاتیں ختم ہوا کرتی ہیں؟
اس شعر میں عاشق اپنے محبوب سے گلے شکوے کے ساتھ ایک پُراعتماد اور پیار بھرے انداز میں مخاطب ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگرچہ آپ رقیبوں اور زمانے کو خوش رکھنے کے لیے ہم سے کتراتے ہیں، مگر دلوں کے ملنے کا سلسلہ ایسے سطحی بہانوں سے بھلا کب رکتا ہے؟ یہ شعر محبت کے اس پختہ یقین کی عکاسی کرتا ہے جو محبوب کی ظاہری بے رخی اور مجبوریوں کو گہری مسکراہٹ کے ساتھ قبول بھی کرتا ہے اور رد بھی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
