“The goblet's endless round but stirs the wine's distress; press the whole cask of vintage at once unto my lips.”
جام کا بار بار گردش کرنا شراب کی بے چینی کا باعث ہے، اس لیے شراب کا پورا مٹکا ایک ہی بار میرے ہونٹوں سے لگا دو۔
شاعر بڑی خوبصورتی سے کہتے ہیں کہ پیالے کو بار بار گردش میں لانا خود شراب کے لیے بھی بے چینی کا باعث ہے اور پیاسے کے لیے بھی صبر آزما۔ وہ قطروں میں ملنے والے لطف سے راضی نہیں، بلکہ چاہتے ہیں کہ شراب کا پورا مٹکا ہی ایک ہی بار ان کے ہونٹوں سے لگا دیا جائے۔ دراصل یہ صرف مے نوشی کا ذکر نہیں، بلکہ عشق اور زندگی کو کسی آدھے ادھورے پیمانے کے بغیر، پوری شدت کے ساتھ جینے کی والہانہ تمنا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
