غزل
ہے بس-کہ ہر اک اُن کے اشارے میں نشاں اور
ہے بس-کہ ہر اک اُن کے اشارے میں نشاں اور
یہ غزل محبوب کی نا سمجھی اور بے رخی پر عاشق کے درد کو بیان کرتی ہے، جہاں ہر اشارہ ایک نیا اور اکثر مبہم معنی رکھتا ہے۔ شاعر خدا سے التجا کرتا ہے کہ محبوب کو سمجھنے والا دل بخشے، کیونکہ اُس کے اپنے الفاظ پیار کی گہرائی سمجھانے میں ناکام رہے ہیں۔ محبوب کی بے پرواہ یا تیکھی نظر کے باوجود، عاشق اپنی اَدَمَّی محبت کا اظہار کرتا ہے، بازار سے بے شمار دل اور جان لانے کو تیار ہے، جو اُس کے اَنَنت قربانی اور پیار کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
है बस-कि हर इक उन के इशारे में निशाँ और
करते हैं मोहब्बत तो गुज़रता है गुमाँ और
ان کے ہر اشارے میں ایک اور نشان ہوتا ہے۔ جب وہ محبت کرتے ہیں، تو ایک اور گمان گزرتا ہے۔
2
या-रब वो न समझे हैं न समझेंगे मिरी बात
दे और दिल उन को जो न दे मुझ को ज़बाँ और
اے رب، وہ نہ میری بات سمجھے ہیں اور نہ کبھی سمجھیں گے۔ انہیں کوئی اور دل عطا کر دے، اگر تو مجھے کوئی اور زبان نہیں دیتا۔
3
अबरू से है क्या उस निगह-ए-नाज़ को पैवंद
है तीर मुक़र्रर मगर इस की है कमाँ और
اس نازک نگاہ کا ابرو سے کیا تعلق ہے؟ یہ یقیناً ایک تیر ہے، مگر اس کی کمان کچھ اور ہی ہے۔
4
तुम शहर में हो तो हमें क्या ग़म जब उठेंगे
ले आएँगे बाज़ार से जा कर दिल ओ जाँ और
جب تم شہر میں ہو تو ہمیں کوئی غم نہیں ہو سکتا۔ جب ہم اٹھیں گے، تو بازار سے جا کر اور دل و جان لے آئیں گے۔
5
हर चंद सुबुक-दस्त हुए बुत-शिकनी में
हम हैं तो अभी राह में है संग-ए-गिराँ और
ہرچند کہ ہم بت شکنی میں ماہر ہو گئے ہیں، مگر جب تک ہم موجود ہیں، راستے میں ایک اور بھاری پتھر پڑا ہے۔
6
है ख़ून-ए-जिगर जोश में दिल खोल के रोता
होते जो कई दीदा-ए-ख़ूँनाबा-फ़िशाँ और
اگر خون کے آنسو بہانے والی اور بھی آنکھیں ہوتیں، تو میرا دل جگر کے خون کے ساتھ کھل کر روتا۔
7
मरता हूँ इस आवाज़ पे हर चंद सर उड़ जाए
जल्लाद को लेकिन वो कहे जाएँ कि हाँ और
میں اس آواز پر مرتا ہوں، بھلے ہی میرا سر قلم ہو جائے۔ لیکن وہ جلاد سے کہتے رہیں کہ 'ہاں، اور (وار کرو)'۔
8
लोगों को है ख़ुर्शीद-ए-जहाँ-ताब का धोका
हर रोज़ दिखाता हूँ मैं इक दाग़-ए-निहाँ और
لوگوں کو دنیا کو روشن کرنے والے سورج کا دھوکا ہے۔ میں تو ہر روز ایک اور چھپا ہوا داغ دکھاتا ہوں۔
9
लेता न अगर दिल तुम्हें देता कोई दम चैन
करता जो न मरता कोई दिन आह-ओ-फ़ुग़ाँ और
اگر میرے دل نے تمہیں اپنا نہ بنایا ہوتا، تو اسے ایک پل بھی چین نہ ملتا۔ اور اگر وہ مرتا نہ، تو اور کئی دن آہیں بھرتا اور فریاد کرتا۔
10
पाते नहीं जब राह तो चढ़ जाते हैं नाले
रुकती है मिरी तब्अ' तो होती है रवाँ और
جب نالے اپنا راستہ نہیں پاتے تو وہ چڑھ جاتے ہیں اور بھر جاتے ہیں۔ اسی طرح، جب میری طبیعت یا تخلیقی روح کو روکا جاتا ہے، تو وہ اور زیادہ روانی سے بہنے لگتی ہے۔
11
हैं और भी दुनिया में सुख़न-वर बहुत अच्छे
कहते हैं कि 'ग़ालिब' का है अंदाज़-ए-बयाँ और
دنیا میں اور بھی بہت اچھے سخنور ہیں، کہتے ہیں کہ غالب کا اندازِ بیاں اور ہی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
