غزل
دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پے رشک آ جائے ہے
دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پے رشک آ جائے ہے
یہ غزل ایک عاشق کے گہرے دکھ کی عکاسی کرتی ہے، جو اپنی قسمت پر اس قدر افسوس کرتا ہے کہ اسے اپنی ہی حالت پر رشک آتا ہے۔ عشق کی شدت دل کو پگھلا دیتی ہے، جب کہ محبوب کی حیا یا بے رخی عاشق کی مسلسل آہوں اور گہری بے چینی کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
देखना क़िस्मत कि आप अपने पे रश्क आ जाए है
मैं उसे देखूँ भला कब मुझ से देखा जाए है
میری قسمت دیکھیے کہ مجھے خود اپنے آپ پر رشک آنے لگتا ہے۔ میں بھلا اسے کیسے دیکھوں جب مجھ سے دیکھا ہی نہیں جاتا ہے۔
2
हाथ धो दिल से यही गर्मी गर अंदेशे में है
आबगीना तुन्दि-ए-सहबा से पिघला जाए है
دل سے ہاتھ دھو لو اگر یہی گرمی تمہارے خیالوں میں ہے۔ شراب کی تیزی سے شراب کا گلاس ہی پگھلا جا رہا ہے۔
3
ग़ैर को या रब वो क्यूँकर मन-ए-गुस्ताख़ी करे
गर हया भी उस को आती है तो शरमा जाए है
اے رب، وہ غیر کی گستاخی کو کیسے روکے؟ اگر اسے ذرا سی بھی حیا آتی ہے تو وہ پوری طرح سے شرما جاتی ہے۔
4
शौक़ को ये लत कि हर दम नाला खींचे जाइए
दिल की वो हालत कि दम लेने से घबरा जाए है
شوق کو یہ لت پڑ گئی ہے کہ وہ ہر دم نالہ کرتا رہے، اور دل کی یہ حالت ہے کہ اسے سانس لینے سے بھی گھبراہٹ ہوتی ہے۔
5
दूर चश्म-ए-बद तिरी बज़्म-ए-तरब से वाह वाह
नग़्मा हो जाता है वाँ गर नाला मेरा जाए है
آپ کی بزمِ طرب سے بُری نظر دور رہے، واہ واہ! اگر میرا نالہ وہاں پہنچ جائے تو وہ نغمہ بن جاتا ہے۔
6
गरचे है तर्ज़-ए-तग़ाफ़ुल पर्दा-दार-ए-राज़-ए-इश्क़
पर हम ऐसे खोए जाते हैं कि वो पा जाए है
گرچہ بے رخی کا انداز عشق کے راز کو چھپاتا ہے، پر ہم ایسے کھو جاتے ہیں کہ وہ راز ظاہر ہو جاتا ہے۔
7
उस की बज़्म-आराइयाँ सुन कर दिल-ए-रंजूर याँ
मिस्ल-ए-नक़्श-ए-मुद्दआ-ए-ग़ैर बैठा जाए है
اس کی محفل کی سجاوٹیں سن کر، یہ غمگین دل یہاں کسی غیر کی آرزو کے نقش کی طرح بیٹھا ہے۔
8
हो के आशिक़ वो परी-रुख़ और नाज़ुक बन गया
रंग खुलता जाए है जितना कि उड़ता जाए है
وہ پری چہرے والا محبوب، عاشق بن کر اور نازک ہو گیا ہے۔ اس کا رنگ جتنا اڑتا جاتا ہے، اتنا ہی کھلتا جاتا ہے۔
9
नक़्श को उस के मुसव्विर पर भी क्या क्या नाज़ हैं
खींचता है जिस क़दर उतना ही खिंचता जाए है
نقش کو اپنے مصور پر بھی بہت ناز ہیں۔ مصور اسے جتنا کھینچتا ہے، وہ اتنا ہی کھنچتا چلا جاتا ہے۔
10
साया मेरा मुझ से मिस्ल-ए-दूद भागे है 'असद'
पास मुझ आतिश-ब-जाँ के किस से ठहरा जाए है
میرا سایہ بھی مجھ سے دھوئیں کی طرح بھاگتا ہے، اسد۔ مجھ آتش بجاں کے پاس کون ٹھہر سکتا ہے؟
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
