غزل
درد سے میرے ہے تجھ کو بےقراری ہائے ہائے
درد سے میرے ہے تجھ کو بےقراری ہائے ہائے
یہ غزل، "درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے،" محبوب کی عاشق کے درد پر بے چینی کو بیان کرتی ہے، جبکہ عاشق محبوب کے ماضی کے وعدوں پر سوال اٹھاتا ہے۔ یہ غزل محبوب کی غفلت اور بے وفائی پر نوحہ کناں ہے، اور زندگی و عہد و پیمان کی ناپائیداری کو نمایاں کرتی ہے۔ یہ ادھورے وعدوں اور ایک ہمدرد لیکن غیر قابل اعتبار محبوب کے سبب پیدا ہونے والے کرب کی عکاسی کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दर्द से मेरे है तुझ को बे-क़रारी हाए हाए
क्या हुई ज़ालिम तिरी ग़फ़लत-शिआरी हाए हाए
میرے درد سے تمہیں بے قراری ہو رہی ہے، ہائے ہائے! اے ظالم، تمہاری وہ غفلت شعاری کہاں گئی، ہائے ہائے!
2
तेरे दिल में गर न था आशोब-ए-ग़म का हौसला
तू ने फिर क्यूँ की थी मेरी ग़म-गुसारी हाए हाए
اگر تمہارے دل میں غم کی بے چینی برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں تھا، تو پھر تم نے میری غمگساری کیوں کی تھی، ہائے ہائے۔
3
क्यूँ मिरी ग़म-ख़्वार्गी का तुझ को आया था ख़याल
दुश्मनी अपनी थी मेरी दोस्त-दारी हाए हाए
تمہیں میری غم خواری کا خیال کیوں آیا تھا؟ تمہاری دشمنی تمہاری اپنی تھی، لیکن میری دوستی کا یہ انجام، ہائے ہائے!
4
उम्र भर का तू ने पैमान-ए-वफ़ा बाँधा तो क्या
उम्र को भी तो नहीं है पाएदारी हाए हाए
تم نے عمر بھر کی وفا کا وعدہ کیا تو کیا ہوا، جب عمر کو بھی تو پائیداری (استحکام) حاصل نہیں۔
5
ज़हर लगती है मुझे आब-ओ-हवा-ए-ज़िंदगी
या'नी तुझ से थी इसे ना-साज़गारी हाए हाए
مجھے زندگی کی آب و ہوا زہر لگتی ہے۔ مطلب یہ کہ یہ تجھ سے بہت ناسازگار تھی، ہائے ہائے!
6
गुल-फ़िशानी-हा-ए-नाज़-ए-जल्वा को क्या हो गया
ख़ाक पर होती है तेरी लाला-कारी हाए हाए
تمہارے جلوے کے ناز کی پھول نچھاور کرنے والی ادا کو کیا ہو گیا ہے؟ تمہاری لالہ کاری اب خاک پر ہو رہی ہے، ہائے ہائے۔
7
शर्म-ए-रुस्वाई से जा छुपना नक़ाब-ए-ख़ाक में
ख़त्म है उल्फ़त की तुझ पर पर्दा-दारी हाए हाए
رسوائی کی شرم سے خاک کے نقاب (قبر) میں جا کر چھپنا پڑا۔ الفت کی پردہ داری تجھ پر ہی ختم ہو گئی ہے، ہائے ہائے۔
8
ख़ाक में नामूस-ए-पैमान-ए-मोहब्बत मिल गई
उठ गई दुनिया से राह-ओ-रस्म-ए-यारी हाए हाए
محبت کے عہد کی عزت خاک میں مل گئی ہے۔ دنیا سے دوستی کے رسم و رواج اٹھ گئے ہیں، ہائے ہائے!
9
हाथ ही तेग़-आज़मा का काम से जाता रहा
दिल पे इक लगने न पाया ज़ख़्म-ए-कारी हाए हाए
تلوار چلانے والے کا ہاتھ ہی کام سے جاتا رہا۔ دل پر ایک بھی کاری زخم لگنے نہ پایا، ہائے ہائے۔
10
किस तरह काटे कोई शब-हा-ए-तार-ए-बर्शिगाल
है नज़र ख़ू-कर्दा-ए-अख़्तर-शुमारी हाए हाए
کوئی شخص سرما کی تاریک راتیں کیسے گزار سکتا ہے؟ میری نظر تو ستارے گننے کی عادی ہے، ہائے ہائے۔
11
गोश महजूर-ए-पयाम ओ चश्म-ए-महरूम-ए-जमाल
एक दिल तिस पर ये ना-उम्मीद-वारी हाए हाए
میرے کان پیغاموں سے محروم ہیں اور آنکھیں جمال سے محروم ہیں۔ اس پر ایک دل اور یہ ناامیدی، ہائے ہائے۔
12
इश्क़ ने पकड़ा न था 'ग़ालिब' अभी वहशत का रंग
रह गया था दिल में जो कुछ ज़ौक़-ए-ख़्वारी हाए हाए
غالبؔ، عشق نے ابھی تک وحشت کا رنگ نہیں پکڑا تھا۔ دل میں ذلت کا جو کچھ شوق رہ گیا تھا، ہائے ہائے، وہ بھی جاتا رہا۔
13
गर मुसीबत थी तो ग़ुर्बत में उठा लेता 'असद'
मेरी दिल्ली ही में होनी थी ये ख़्वारी हाए हाए
اگر یہ صرف ایک مصیبت ہوتی، اسد، تو میں اسے پردیس میں بھی برداشت کر لیتا۔ مگر یہ خواری، ہائے ہائے، میری دہلی ہی میں ہونی تھی۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
