غزل
بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
یہ غزل شدید بے بسی اور گہرے دکھ کی ایک دلکش تصویر پیش کرتی ہے، جہاں دل کو خون کے ایک نازک قطرے کے طور پر دکھایا گیا ہے جو مسلسل غم سے بوجھل ہے۔ یہ نامکمل خواہشات کی گہرائیوں اور اس تلخ ستم ظریفی کو بیان کرتی ہے کہ درد کا اظہار بھی اندرونی تکلیف کو مزید بڑھا دیتا ہے، جس سے مایوسی سے کوئی چھٹکارا نہیں ملتا۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
बिसात-ए-इज्ज़ में था एक दिल यक क़तरा ख़ूँ वो भी
सो रहता है ब-अंदाज़-ए-चकीदन सर-निगूँ वो भी
بے بسی کے عالم میں ایک دل تھا، جو خون کے ایک قطرے جیسا تھا۔ وہ بھی ٹپکنے والے آنسو کی مانند سر جھکائے رہتا ہے۔
2
रहे उस शोख़ से आज़ुर्दा हम चंदे तकल्लुफ़ से
तकल्लुफ़ बरतरफ़ था एक अंदाज़-ए-जुनूँ वो भी
ہم اس شوخ سے کچھ عرصے تک تکلفاً ناراض رہے۔ لیکن سچ پوچھیں تو، وہ ناراضگی بھی ہمارے جنون کا ایک انداز ہی تھی۔
3
ख़याल-ए-मर्ग कब तस्कीं दिल-ए-आज़ुर्दा को बख़्शे
मिरे दाम-ए-तमन्ना में है इक सैद-ए-ज़बूँ वो भी
موت کا خیال میرے غمزدہ دل کو کب تسکین بخشے گا؟ وہ (موت) بھی، ایک کمزور شکار، میری تمناؤں کے جال میں پھنسا ہوا ہے۔
4
न करता काश नाला मुझ को क्या मालूम था हमदम
कि होगा बाइस-ए-अफ़्ज़ाइश-ए-दर्द-ए-दरूँ वो भी
کاش میں نے نالہ نہ کیا ہوتا، اے دوست، مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ بھی میرے اندرونی درد میں اضافے کا باعث بنے گا؟
5
न इतना बुर्रिश-ए-तेग़-ए-जफ़ा पर नाज़ फ़रमाओ
मिरे दरिया-ए-बे-ताबी में है इक मौज-ए-ख़ूँ वो भी
ظلم کی تلوار کی تیزی پر اتنا فخر مت کرو۔ میری بے تابی کے دریا میں خون کی ایک لہر بھی موجود ہے۔
6
मय-ए-इशरत की ख़्वाहिश साक़ी-ए-गर्दूं से क्या कीजे
लिए बैठा है इक दो चार जाम-ए-वाज़-गूँ वो भी
آسمان کے ساقی سے خوشی کی شراب کی خواہش کیوں کی جائے؟ وہ خود بھی کچھ دکھ کے جام لے کر بیٹھا ہے۔
7
मिरे दिल में है 'ग़ालिब' शौक़-ए-वस्ल ओ शिकवा-ए-हिज्राँ
ख़ुदा वो दिन करे जो उस से मैं ये भी कहूँ वो भी
اے غالب، میرے دل میں وصل کا شوق اور ہجر کی شکایت دونوں ہیں۔ خدا وہ دن کرے جب میں اس سے یہ بھی کہوں اور وہ بھی کہوں۔
8
मुझे मालूम है जो तू ने मेरे हक़ में सोचा है
कहीं हो जाए जल्द ऐ गर्दिश-ए-गर्दून-ए-दूँ वो भी
مجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہے۔ اے اس کمینے آسمان کی گردش، کاش وہ بھی جلد ہو جائے۔
9
नज़र राहत पे मेरी कर न वा'दा शब के आने का
कि मेरी ख़्वाब-बंदी के लिए होगा फ़ुसूँ वो भी
میری راحت کو مت دیکھو، اور رات کے آنے کا وعدہ بھی مت کرو، کیونکہ وہ بھی میری نیند کو روکنے کے لیے ایک فسوں بن جائے گا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
