غزل
بیمِ رقیب سے نہیں کرتے وداعِ ہوش
بیمِ رقیب سے نہیں کرتے وداعِ ہوش
یہ غزل شاعر کے گہرے دکھ اور اٹل مزاحمت کو بیان کرتی ہے، جہاں وہ رقیب کی موجودگی کے باوجود ہوش کھونے سے انکار کرتا ہے۔ یہ محبوب کی عارضی مہربانی اور گہری کدورت پر افسوس کا اظہار کرتی ہے، جو ادھوری آرزو اور شدید جذباتی کرب کے درمیان بے بسی سے جلتے ہوئے دل کی تصویر پیش کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
बीम-ए-रक़ीब से नहीं करते विदा'-ए-होश
मजबूर याँ तलक हुए ऐ इख़्तियार हैफ़
رقیب کے خوف سے میں اپنے ہوش کو وداع نہیں کرتا۔ ہم اس حد تک مجبور ہو گئے ہیں، اے اختیار، حیف ہے۔
2
जलता है दिल कि क्यूँ न हम इक बार जल गए
ऐ ना-तमामी-ए-नफ़स-ए-शोला-बार हैफ़
دل جلتا ہے کہ میں ایک ہی بار میں کیوں نہ جل گیا۔ اے شعلے برسانے والی سانس کی نامکمل حالت، افسوس ہے۔
3
नामा भी लिखते हो तो ब-ख़त-ए-ग़ुबार हैफ़
रखते हो मुझ से इतनी कुदूरत हज़ार हैफ़
افسوس، تم اگر خط بھی لکھتے ہو تو وہ غبار آلود خط میں ہوتا ہے۔ افسوس کہ تم مجھ سے اتنی کدورت رکھتے ہو۔
4
बेश अज़ नफ़स बुताँ के करम ने वफ़ा न की
था महमिल-ए-निगाह ब-दोश-ए-शरार हैफ़
بتوں کے کرم نے ایک سانس سے زیادہ دیر تک وفا نہ کی۔ افسوس، نگاہ کی پالکی ایک چنگاری کے کندھے پر تھی۔
5
थी मेरे ही जलाने को ऐ आह-ए-शो'ला-रेज़
घर पर पड़ा न ग़ैर के कोई शरार हैफ़
اے آہِ شعلہ ریز، تم صرف مجھے ہی جلانے کے لیے تھی۔ افسوس کہ حریف کے گھر پر کوئی چنگاری نہ گری۔
6
गुल चेहरा है किसी ख़फ़क़ानी मिज़ाज का
घबरा रही है बीम-ए-ख़िज़ाँ से बहार हैफ़
کسی کا چہرہ پھول جیسا ہے، پھر بھی اُس کا مزاج اُداس اور پریشان ہے۔ افسوس، بہار بھی خزاں کے ڈر سے گھبرا رہی ہے۔
7
हैं मैरी मुश्त-ए-ख़ाक से उस को कुदूरतें
पाई जगह भी दिल में तो हो कर ग़ुबार हैफ़
میری مٹھی بھر خاک (میری ہستی) سے اسے رنجشیں ہیں۔ افسوس، اگر مجھے اس کے دل میں جگہ بھی ملی تو وہ گرد بن کر ہی ملے گی۔
8
बनता 'असद' मैं सुर्मा-ए-चश्म-ए-रिकाब-ए-यार
आया न मेरी ख़ाक पे वो शह-सवार हैफ़
میں، اسد، محبوب کی رکاب کی آنکھ کا سرمہ بن جاتا، مگر افسوس، وہ شہسوار میری خاک پر نہ آیا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
