गुल चेहरा है किसी ख़फ़क़ानी मिज़ाज का
घबरा रही है बीम-ए-ख़िज़ाँ से बहार हैफ़
“A flowery face, yet of a bilious disposition, Spring itself, alas, trembles at autumn's dread.”
— مرزا غالب
معنی
کسی کا چہرہ پھول جیسا ہے، پھر بھی اُس کا مزاج اُداس اور پریشان ہے۔ افسوس، بہار بھی خزاں کے ڈر سے گھبرا رہی ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
