बनता 'असद' मैं सुर्मा-ए-चश्म-ए-रिकाब-ए-यार
आया न मेरी ख़ाक पे वो शह-सवार हैफ़
“I, Asad, would have been the kohl for the beloved's stirrup's eye, Alas, that royal rider never came to my dust, passed me by.”
— مرزا غالب
معنی
میں، اسد، محبوب کی رکاب کی آنکھ کا سرمہ بن جاتا، مگر افسوس، وہ شہسوار میری خاک پر نہ آیا۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
← Prev8 / 8
