غزل

برشِکالِ گِریۂِ عاشِق ہے دیکھا چاہیے

برشِکالِ گِریۂِ عاشِق ہے دیکھا چاہیے
مرزا غالب· Ghazal· 8 shers· radif: मीज़ाब-ए-सरकार-ए-चमन

یہ غزل ایک عاشق کے شدید غم کی عکاسی کرتی ہے، اس کے مسلسل آنسوؤں کو ایسی بارش سے تشبیہ دیتی ہے جس کی شدت سے باغ کی دیواریں بھی گویا کھل اٹھی ہیں۔ یہ عشق کی گہری اور ناگزیر فطرت کو اجاگر کرتی ہے، یہ دلیل دیتی ہے کہ محبوب سے بے تعلقی کا کوئی بھی دعویٰ جھوٹا ہے۔ بالآخر، یہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ عشق کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ آزادی کی علامتیں، جیسے کہ سرو، بھی محبت کے باغ سے جڑے رہتے ہیں۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
बर्शिकाल-ए-गिर्या-ए-आशिक़ है देखा चाहिए खिल गई मानिंद-ए-गुल सौ जा से दीवार-ए-चमन
برشکال گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے کھل گئی مانند گل سو جا سے دیوار چمن
یہ عاشق کے آنسوؤں کی برسات ہے، اسے دیکھنا چاہیے۔ چمن کی دیوار سو جگہ سے پھول کی طرح کھل گئی ہے۔
2
उल्फ़त-ए-गुल से ग़लत है दावा-ए-वारस्तगी सर्व है बा-वस्फ़-ए-आज़ादी गिरफ़्तार-ए-चमन
الفت گل سے غلط ہے دعوی وارستگی سرو ہے با وصف آزادی گرفتار چمن
پھول کی محبت سے بے تعلقی کا دعویٰ غلط ہے۔ سرو کا درخت اپنی آزادی کے باوجود باغ کا قیدی ہے۔
3
साफ़ है अज़ बस-कि अक्स-ए-गुल से गुलज़ार-ए-चमन जानशीन-ए-जौहर-ए-आईना है ख़ार-ए-चमन
صاف ہے از بسکہ عکس گل سے گلزار چمن جانشین جوہر آئینہ ہے خار چمن
چمن کا گلزار پھولوں کے عکس سے اتنا صاف ہے کیونکہ چمن کا خار آئینے کے جوہر کا جانشین ہے۔
4
है नज़ाकत बस कि फ़स्ल-ए-गुल में मेमार-ए-चमन क़ालिब-ए-गुल में ढली है ख़िश्त-ए-दीवार-ए-चमन
ہے نزاکت بس کہ فصل گل میں معمار چمن قالب گل میں ڈھلی ہے خشت دیوار چمن
نزاكت بس اتنی ہے کہ پھولوں کے موسم میں باغ کے معمار نے باغ کی دیوار کی اینٹ کو پھول کے قالب میں ڈھال دیا ہے۔
5
तेरी आराइश का इस्तिक़बाल करती है बहार जौहर-ए-आईना है याँ नक़्श-ए-एहज़ार-ए-चमन
تیری آرائش کا استقبال کرتی ہے بہار جوہر آئینہ ہے یاں نقش احضار چمن
بہار تیری آرائش کا استقبال کرتی ہے۔ یہاں ہزاروں باغوں کا نقش آئینے کا جوہر ہے۔
6
बस कि पाई यार की रंगीं-अदाई से शिकस्त है कुलाह-ए-नाज़-ए-गुल बर ताक़-ए-दीवार-ए-चमन
بس کہ پائی یار کی رنگیں ادائی سے شکست ہے کلاہ ناز گل بر طاق دیوار چمن
بس اس لیے کہ اسے محبوب کی رنگین ادا سے شکست ہوئی، پھول کا فخر بھرا تاج چمن کی دیوار کے طاق پر رکھا ہے۔
7
वक़्त है गर बुलबुल-ए-मिस्कीं ज़ुलेख़ाई करे यूसुफ़-ए-गुल जल्वा-फ़रमा है ब-बाज़ार-ए-चमन
وقت ہے گر بلبل مسکیں زلیخائی کرے یوسف گل جلوہ فرما ہے بہ بازار چمن
اگر بےچاری بلبل زلیخا کا کام (موہت ہونا) کرے، تو پھولوں کا یوسف (انتہائی خوبصورت پھول) چمن کے بازار میں جلوہ گر ہے۔
8
वहशत-अफ़्ज़ा गिर्या-हा मौक़ूफ़-ए-फ़स्ल-ए-गुल 'असद' चश्म-ए-दरिया-रेज़ है मीज़ाब-ए-सरकार-ए-चमन
وحشت افزا گریہ ہا موقوف فصل گل اسدؔ چشم دریا ریز ہے میزاب سرکار چمن
اے اسد، وحشت پیدا کرنے والے آنسو پھولوں کے موسم پر منحصر ہیں۔ میری دریا کی طرح بہنے والی آنکھ باغ کے مالک کا پرنالہ ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.