“With love for the rose, false is the claim of detachment's art,The cypress, though free, is captive to the garden's heart.”
پھول کی محبت سے بے تعلقی کا دعویٰ غلط ہے۔ سرو کا درخت اپنی آزادی کے باوجود باغ کا قیدی ہے۔
غالب اس شعر میں ہمیں بہت پیارے انداز میں بتاتے ہیں کہ گل (دنیاوی خوبصورتی) سے محبت رکھتے ہوئے آزادی اور وارستگی کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ جیسے سرْو کا درخت اپنی آزادی کے باوجود دراصل چمن ہی کا قیدی ہوتا ہے، وہیں کا ایک حصہ ہے۔ یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ جب تک ہمارا دل دنیاوی لگاوٹوں میں الجھا ہے، ہم حقیقی معنی میں آزاد نہیں ہو سکتے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
