“For your adornment, spring extends its welcome wide,The mirror's essence here, a thousand gardens hide.”
بہار تیری آرائش کا استقبال کرتی ہے۔ یہاں ہزاروں باغوں کا نقش آئینے کا جوہر ہے۔
یہاں غالب کہتے ہیں کہ تمہاری خوبصورتی اس قدر دلکش ہے کہ بہار بھی خود اس کا استقبال کرنے آتی ہے، گویا اس کا مقصد ہی تمہاری زیبائش کو اجاگر کرنا ہو۔ وہ مزید فرماتے ہیں کہ جس طرح آئینے کا اصل جوہر صرف اس کی چمک نہیں، بلکہ اس میں ہزاروں باغوں کا عکس دیکھنا ہے، اسی طرح محبوب کی ذات میں بھی بے شمار حسین نظارے پنہاں ہیں۔ یہ شعر دراصل بتاتا ہے کہ محبوب کا حسن اتنا بے مثال ہے کہ فطرت بھی اس پر فدا ہے اور کائنات کی ہر شے میں اسی کی جھلک نظر آتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
