वहशत-अफ़्ज़ा गिर्या-हा मौक़ूफ़-ए-फ़स्ल-ए-गुल 'असद'
चश्म-ए-दरिया-रेज़ है मीज़ाब-ए-सरकार-ए-चमन
“Asad, these frantic tears, they spring forth with the season of rose; My eye that pours like rivers, the waterspout where the garden grows.”
— مرزا غالب
معنی
اے اسد، وحشت پیدا کرنے والے آنسو پھولوں کے موسم پر منحصر ہیں۔ میری دریا کی طرح بہنے والی آنکھ باغ کے مالک کا پرنالہ ہے۔
تشریح
یہ شعر غالب کے ابتدائی دنوں کو دکھاتا ہے جب وہ 'اسد' تخلص استعمال کرتے تھے۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ ان کے دل کو تڑپانے والے اور وحشت بڑھانے والے آنسو کسی خاص موسم، جیسے بہار کے، محتاج نہیں ہیں۔ دراصل، ان کی آنکھوں سے جو آنسوؤں کی ندیاں بہہ رہی ہیں، وہ تو گویا 'باغ کے مالک' کا پرنالہ ہیں – یعنی ان کا دکھ اتنا گہرا اور مستقل ہے کہ یہ بس قدرت کا ایک حصہ بن چکا ہے۔
مشکل الفاظ
वहशत-अफ़्ज़ा— terrifying, desolation-increasing, fear-inducing
गिर्या-हा— weepings, cries (plural)
मौक़ूफ़-ए— dependent on, ceased, stopped, suspended
चश्म-ए-दरिया-रेज़— river-pouring eye, an eye that weeps profusely
मीज़ाब— waterspout, gutter, downspout
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev8 / 8
