“Asad, these frantic tears, they spring forth with the season of rose; My eye that pours like rivers, the waterspout where the garden grows.”
اے اسد، وحشت پیدا کرنے والے آنسو پھولوں کے موسم پر منحصر ہیں۔ میری دریا کی طرح بہنے والی آنکھ باغ کے مالک کا پرنالہ ہے۔
یہ شعر غالب کے ابتدائی دنوں کو دکھاتا ہے جب وہ 'اسد' تخلص استعمال کرتے تھے۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ ان کے دل کو تڑپانے والے اور وحشت بڑھانے والے آنسو کسی خاص موسم، جیسے بہار کے، محتاج نہیں ہیں۔ دراصل، ان کی آنکھوں سے جو آنسوؤں کی ندیاں بہہ رہی ہیں، وہ تو گویا 'باغ کے مالک' کا پرنالہ ہیں – یعنی ان کا دکھ اتنا گہرا اور مستقل ہے کہ یہ بس قدرت کا ایک حصہ بن چکا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
