“From the beloved's vibrant charm, such utter rout was met, The flower's proud cap now on the garden wall's niche is set.”
بس اس لیے کہ اسے محبوب کی رنگین ادا سے شکست ہوئی، پھول کا فخر بھرا تاج چمن کی دیوار کے طاق پر رکھا ہے۔
یار کی رنگین ادائیں اتنی دلکش اور دلربا ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی من موہنی اداؤں کے آگے تو باغ کا سب سے خوبصورت پھول، یعنی گلاب بھی اپنی شان و شوکت اور ناز کو بھول جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے گویا اپنی ہار مان کر گلاب نے اپنا تاج اتار کر چمن کی دیوار کی ایک معمولی طاق پر رکھ دیا ہو۔ یہ محبوب کی بے مثال خوبصورتی اور جادوگری اداؤں کی تعریف ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
