غزل
بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے
بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے
اس غزل میں مرزا غالب دنیاوی رنج و غم کے مقابلے میں بے نیازی کا اظہار کرتے ہوئے شراب اور ساقیِ کوثر کی عقیدت میں پناہ تلاش کرتے ہیں۔ وہ محبوب کے تغافل اور رقیب پر اس کی عنایات کو فلسفیانہ تمکنت اور شوخی کے ساتھ انگیز کرتے ہیں۔
Source: rekhta · HI
ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →نغمہ سنیں
1
बहुत सही ग़म-ए-गीती शराब कम क्या है
ग़ुलाम-ए-साक़ी-ए-कौसर हूँ मुझ को ग़म क्या है
بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے
غلام ساقیٔ کوثر ہوں مجھ کو غم کیا ہے
اگرچہ دنیا کے غم بہت زیادہ ہیں مگر شراب کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ میں ساقیٔ کوثر کا غلام ہوں، اس لیے مجھے بھلا کس بات کا غم ہو سکتا ہے؟
2
तुम्हारी तर्ज़-ओ-रविश जानते हैं हम क्या है
रक़ीब पर है अगर लुत्फ़ तो सितम क्या है
تمہاری طرز و روش جانتے ہیں ہم کیا ہے
رقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے
ہم آپ کے طور طریقے اور رویے کو خوب جانتے ہیں؛ اگر رقیب پر یہ آپ کی مہربانی ہے تو پھر ظلم و ستم کسے کہتے ہیں؟
3
सुख़न में ख़ामा-ए-ग़ालिब की आतिश-अफ़्शानी
यक़ीं है हम को भी लेकिन अब उस में दम क्या है
سخن میں خامۂ غالبؔ کی آتش افشانی
یقیں ہے ہم کو بھی لیکن اب اس میں دم کیا ہے
ہمیں بھی یقین ہے کہ شاعری میں غالب کا قلم آگ برساتا تھا، لیکن اب اس میں کیا جان یا دم باقی رہ گیا ہے۔
4
कटे तो शब कहें काटे तो साँप कहलावे
कोई बताओ कि वो ज़ुल्फ़-ए-ख़म-ब-ख़म क्या है
کٹے تو شب کہیں کاٹے تو سانپ کہلاوے
کوئی بتاؤ کہ وہ زلف خم بہ خم کیا ہے
اگر یہ کٹے تو اسے رات کہتے ہیں اور اگر ڈسے تو سانپ کہلاتی ہے؛ کوئی بتائے کہ وہ بل کھاتی ہوئی زلف آخر کیا چیز ہے؟
5
लिखा करे कोई अहकाम-ए-ताला-ए-मौलूद
किसे ख़बर है कि वाँ जुम्बिश-ए-क़लम क्या है
لکھا کرے کوئی احکام طالع مولود
کسے خبر ہے کہ واں جنبش قلم کیا ہے
کوئی چاہے نو مولود بچے کی قسمت کا حال اور زائچہ لکھتا رہے، مگر کسے خبر ہے کہ وہاں (بارگاہِ الٰہی میں) قلمِ تقدیر کی جنبش کیا ہے۔
6
न हश्र-ओ-नश्र का क़ाएल न केश ओ मिल्लत का
ख़ुदा के वास्ते ऐसे की फिर क़सम क्या है
نہ حشر و نشر کا قائل نہ کیش و ملت کا
خدا کے واسطے ایسے کی پھر قسم کیا ہے
جو انسان نہ قیامت اور حساب و کتاب پر یقین رکھتا ہے اور نہ ہی کسی مذہب و ملت کا قائل ہے، خدا کے لیے بتائیے کہ ایسے شخص کی قسم کا کیا اعتبار ہو سکتا ہے؟
7
वो दाद-ओ-दीद गराँ-माया शर्त है हमदम
वगर्ना मेहर-ए-सुलेमान-ओ-जाम-ए-जम क्या है
وہ داد و دید گراں مایہ شرط ہے ہم دم
وگرنہ مہر سلیمان و جام جم کیا ہے
اے دوست، قدر شناسی اور بصیرت کی وہ بیش قیمت نگاہ ہی اصل شرط ہے، ورنہ حضرت سلیمان کی مہر اور جمشید کے پیالے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
