“Believing neither in the Day of Reckoning nor in creed or faith—for God's sake, tell me, what worth does the oath of such a one hold?”
جو انسان نہ قیامت اور حساب و کتاب پر یقین رکھتا ہے اور نہ ہی کسی مذہب و ملت کا قائل ہے، خدا کے لیے بتائیے کہ ایسے شخص کی قسم کا کیا اعتبار ہو سکتا ہے؟
اس شعر میں شاعر نے اپنے بے پروا محبوب کی وعدہ خلافی پر بڑی دلکش اور پرمزاح طنز کی ہے۔ وہ شکوہ کناں ہے کہ جو شخص نہ تو روزِ جزا و سزا یعنی حشر و نشر کو مانتا ہے اور نہ ہی کسی دین و مذہب کے ضابطے کا قائل ہے، اس کی قسم کی کیا وقعت ہو سکتی ہے؟ شاعر بڑی پیاری جھنجھلاہٹ کے ساتھ یہ حقیقت عیاں کرتا ہے کہ جس کے دل میں جوابدہی کا کوئی خوف ہی نہ ہو، اس کے عہد و پیمان پر اعتبار کرنا نری بیوقوفی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
