“Granted, the world is rife with grief, but is there any lack of wine? / I serve the Cupbearer of Kausar—what sorrow could be mine?”
اگرچہ دنیا کے غم بہت زیادہ ہیں مگر شراب کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ میں ساقیٔ کوثر کا غلام ہوں، اس لیے مجھے بھلا کس بات کا غم ہو سکتا ہے؟
شاعر بڑی بے نیازی سے دنیا کے بے پناہ دکھوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر غم بہت ہیں تو کیا ہوا، ان کا مداوا کرنے کے لیے مے کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ مگر دوسرے مصرع میں یہ بات زمینی مے نوشی سے بلند ہو کر ایک گہرے روحانی اور ایمانی تعلق میں ڈھل جاتی ہے، جہاں وہ فخر سے خود کو 'ساقیٔ کوثر' (حضرت علیؑ) کا غلام کہتا ہے۔ جب انسان کا سہارا اور فیض کا سرچشمہ اتنا بلند ہو، تو پھر دنیا کے عارضی دکھ اس کے دل کو کیسے ملول کر سکتے ہیں!
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
