سخن میں خامۂ غالبؔ کی آتش افشانی یقیں ہے ہم کو بھی لیکن اب اس میں دم کیا ہے

“That Ghalib's pen scatters fire in verse, we too believe; yet what breath remains in it now?”

— مرزا غالب
معنی

ہمیں بھی یقین ہے کہ شاعری میں غالب کا قلم آگ برساتا تھا، لیکن اب اس میں کیا جان یا دم باقی رہ گیا ہے۔

تشریح

اس شعر میں غالب اپنے شاندار ماضی اور فکری جاہ و جلال پر ایک دھیمی سی اداسی کے ساتھ نگاہ ڈالتے ہیں۔ وہ خوش دلی سے مانتے ہیں کہ ان کے قلم سے کبھی شعر و سخن میں شعلے برسا کرتے تھے، مگر اب عمر کی ڈھلان پر وہ پہلی سی جان اور حرارت باقی نہیں رہی۔ یہ دراصل ایک عظیم فنکار کا اپنی ناتوانی، زوال اور گزرے ہوئے شباب کا بے ساختہ اور پردرد اعتراف ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.