“Let them chart the decrees of the newborn's rising star; who knows how the Pen moves in that realm afar?”
کوئی چاہے نو مولود بچے کی قسمت کا حال اور زائچہ لکھتا رہے، مگر کسے خبر ہے کہ وہاں (بارگاہِ الٰہی میں) قلمِ تقدیر کی جنبش کیا ہے۔
غالب اس شعر میں انسان کی اس لاحاصل کوشش پر بڑی خوبصورتی سے مسکراتے ہیں جو ستاروں کو دیکھ کر تقدیر ناپنے کے دعوے کرتی ہے۔ نجومی اور پیش گو خواہ نو مولود بچے کا زائچہ بنا کر اس کی قسمت کے کتنے ہی فیصلے لکھ لیں، مگر خدا کی قلمِ تقدیر کی جنبش اور ارادوں کو کوئی نہیں جان سکتا۔ دراصل یہ شعر انسان کو سمجھاتا ہے کہ کائنات اور قسمت کے اصل راز ہماری فہم اور اندازوں سے کہیں بلند تر ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
