“That priceless discernment and vision is the essential condition, my friend; otherwise, what worth has Solomon's seal or Jamshid's wondrous cup?”
اے دوست، قدر شناسی اور بصیرت کی وہ بیش قیمت نگاہ ہی اصل شرط ہے، ورنہ حضرت سلیمان کی مہر اور جمشید کے پیالے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔
شاعر اس شعر میں بڑی خوبصورتی سے سمجھاتے ہیں کہ اصل قیمت بیرونی رعب اور معجزاتی نشانیوں کی نہیں، بلکہ انسان کی اپنی قدر شناسی اور باطنی بصیرت کی ہے۔ حضرت سلیمانؑ کی مہرِ سلطنت ہو یا جمشید کا جہان نما پیالہ، اگر دیکھنے والی آنکھ اور سمجھنے والا دل ہی نہ ہو تو یہ سب بے معنی ہیں۔ دنیا کا سارا حسن اور دولت صرف اسی کے لیے معتبر ہے جو سچائی کو پہچاننے کی نگاہ رکھتا ہو۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
