“We know full well your manners and your ways; if this be grace upon the rival, what then is cruelty?”
ہم آپ کے طور طریقے اور رویے کو خوب جانتے ہیں؛ اگر رقیب پر یہ آپ کی مہربانی ہے تو پھر ظلم و ستم کسے کہتے ہیں؟
اس شعر میں ایک بڑا دلکش طنز اور معشوق کے مزاج کی گہری پہچان جھلکتی ہے۔ عاشق کہتا ہے کہ ہم تمہارے طور طریقوں اور عادات سے بخوبی واقف ہیں، اس لیے ہمیں فریب دینے کی ضرورت نہیں۔ اگر رقیب پر تمہارا یہ برتاؤ لطف و عنایت کہلاتا ہے، تو پھر خدا جانے ظلم و ستم کس بلا کا نام ہے! یعنی محبوب کی نوازش بھی دراصل ایک ستمِ ظریفی ہی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
