کٹے تو شب کہیں کاٹے تو سانپ کہلاوے کوئی بتاؤ کہ وہ زلف خم بہ خم کیا ہے

“If spent, it is called the night; if it stings, a serpent's snare—will someone tell me what it is, that coiled and twisting hair?”

— مرزا غالب
معنی

اگر یہ کٹے تو اسے رات کہتے ہیں اور اگر ڈسے تو سانپ کہلاتی ہے؛ کوئی بتائے کہ وہ بل کھاتی ہوئی زلف آخر کیا چیز ہے؟

تشریح

شاعر نے یہاں لفظ 'کاٹنے' اور 'کٹنے' کی رعایت سے ایک پُرلُطف اور معمے جیسا انداز اختیار کیا ہے۔ ہجر میں اگر وقت کی طرح کٹے تو یہ محبوب کی زلفیں رات بن جاتی ہیں، اور اگر دل کو ڈس لیں تو زہریلا سانپ معلوم ہوتی ہیں۔ عاشق حیرت و وارفتگی سے پوچھتا ہے کہ بل کھاتی ہوئی یہ دلکش زلفیں دراصل کیا بلا ہیں، جو حسن کا جادو بھی جگاتی ہیں اور دل کو تڑپاتی بھی ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.