غزل

آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے

آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
مرزا غالب· Ghazal· 8 shers· radif: था

یہ غزل عشق کے روبرو حسن کے غرور کی شکست اور محبوب کے احساسِ ندامت کی دلکش تصویر کشی کرتی ہے۔ اس میں عاشق کے خلوص، خود سپردگی اور محبت کی بے پناہ طاقت کو پُرتاثیر اور دلنشیں پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
आईना देख अपना सा मुँह ले के रह गए साहब को दिल न देने पे कितना ग़ुरूर था
آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
آئینہ دیکھ کر وہ شرمندہ ہو کر رہ گئے، حالانکہ پہلے انہیں کسی کو دل نہ دینے پر کتنا غرور تھا۔
2
क़ासिद को अपने हाथ से गर्दन न मारिए उस की ख़ता नहीं है ये मेरा क़ुसूर था
قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
پیغام رساں کو اپنے ہاتھوں سے قتل مت کیجیے؛ اس میں اس کا کوئی گناہ نہیں ہے، یہ ساری غلطی میری تھی۔
3
ज़ोफ़-ए-जुनूँ को वक़्त-ए-तपिश दर भी दूर था इक घर में मुख़्तसर बयाबाँ ज़रूर था
ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا اک گھر میں مختصر بیاباں ضرور تھا
جنون کی کمزوری اور تپش کے عالم میں گھر کا دروازہ بھی بہت دور لگتا تھا؛ اس گھر کے اندر ہی یقیناً ایک مختصر سا بیابان موجود تھا۔
4
ऐ वाए-ग़फ़लत-ए-निगह-ए-शौक़ वर्ना याँ हर पारा संग लख़्त-ए-दिल-ए-कोह-ए-तूर था
اے وائے غفلت نگۂ شوق ورنہ یاں ہر پارہ سنگ لخت دل کوہ طور تھا
افسوس کہ نگاہِ شوق نے غفلت برتی، ورنہ یہاں کا ہر پتھر کوہِ طور کے دل کا ٹکڑا تھا۔
5
दर्स-ए-तपिश है बर्क़ को अब जिस के नाम से वो दिल है ये कि जिस का तख़ल्लुस सुबूर था
درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا
یہ وہی دل ہے جس کا لقب کبھی صبر و تحمل تھا، مگر اب بجلی بھی اس کے نام سے تپش اور جلن کا سبق لیتی ہے۔
6
हर रंग में जला 'असद'-ए-फ़ित्ना-इन्तिज़ार परवाना-ए-तजल्ली-ए-शम-ए-ज़ुहूर था
ہر رنگ میں جلا اسدؔ فتنہ انتظار پروانۂ تجلی شمع ظہور تھا
انتظار کے فتنے میں مبتلا اسد ہر حال میں جلتا رہا، کیونکہ وہ جلوۂ ظہور کی شمع کی روشنی کا پروانہ تھا۔
7
शायद कि मर गया तिरे रुख़्सार देख कर पैमाना रात माह का लबरेज़-ए-नूर था
شاید کہ مر گیا ترے رخسار دیکھ کر پیمانہ رات ماہ کا لبریز نور تھا
رات چاند کا پیمانہ نور سے لبریز تھا، شاید وہ تمہارے رخسار دیکھ کر ہی مر گیا۔
8
जन्नत है तेरी तेग़ के कुश्तों की मुंतज़िर जौहर सवाद-ए-जल्वा-ए-मिज़्गान-ए-हूर था
جنت ہے تیری تیغ کے کشتوں کی منتظر جوہر سواد جلوۂ مژگان حور تھا
جنت تمہاری تلوار سے قتل ہونے والوں کی منتظر ہے، اور تیغ پر چمکتا جوہر دراصل حوروں کی پلکوں کا عکس تھا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.