“Do not strike down the messenger with your own hand; / the fault is not his, the blame was mine alone.”
پیغام رساں کو اپنے ہاتھوں سے قتل مت کیجیے؛ اس میں اس کا کوئی گناہ نہیں ہے، یہ ساری غلطی میری تھی۔
اس شعر میں ایک پُراثر اور روایتی منظر کھینچا گیا ہے جہاں محبوب خط پڑھ کر اس قدر برہم ہوتا ہے کہ قاصد کی گردن اڑانے پر تل جاتا ہے۔ عاشق تڑپ کر بیچ میں آتا ہے اور التجا کرتا ہے کہ اس بے گناہ کا کوئی دوش نہیں، پیغام میں جو بھی بے باکی تھی وہ میرا اپنا قصور تھا۔ یہ شعر محبوب کے غصے کی شدت اور عاشق کی سراپا سپردگی اور ذمہ داری کو خوبصورتی سے ظاہر کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
