“Paradise eagerly awaits those slain by your sword; the luster on your steel was the shadow of the houris' eyelashes.”
جنت تمہاری تلوار سے قتل ہونے والوں کی منتظر ہے، اور تیغ پر چمکتا جوہر دراصل حوروں کی پلکوں کا عکس تھا۔
غالب نے اس شعر میں محبوب کے ہاتھوں قتل ہونے کو ایک پرلطف اور عظیم سعادت بنا کر پیش کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تیری تیغِ ادا کے شہیدوں کا استقبال کرنے کے لیے تو خود جنت بھی پلکیں بچھائے منتظر بیٹھی ہے۔ تلوار کی دھار پر چمکتے ہوئے جوہر درحقیقت فولاد کی لکیریں نہیں، بلکہ جنت کی حوروں کی پلکوں کا عکس ہیں جو بے تاب ہو کر ان عاشقوں کا راستہ دیکھ رہی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
