اے وائے غفلت نگۂ شوق ورنہ یاں ہر پارہ سنگ لخت دل کوہ طور تھا

“Alas, the negligence of longing's gaze! Else here, every shard of stone was a piece of Mount Sinai's heart.”

— مرزا غالب
معنی

افسوس کہ نگاہِ شوق نے غفلت برتی، ورنہ یہاں کا ہر پتھر کوہِ طور کے دل کا ٹکڑا تھا۔

تشریح

غالب اس شعر میں انسان کی بے خبری اور بے توجہی کا رونا روتے ہیں کہ ہماری نگاہِ شوق کتنی غافل نکلی۔ اگر ہماری نظر میں بصیرت اور سچی تڑپ ہوتی، تو ہمیں دنیا کا ہر عام پتھر بھی کوہِ طور کا ٹکڑا نظر آتا جس پر جلوۂ خداوندی ظاہر ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ محبوبِ حقیقی کا نور تو کائنات کے ذرے ذرے میں بکھرا ہوا ہے، کمی صرف ہمارے دیکھنے والی آنکھ میں تھی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.