“A glance into the mirror left them humbled and crestfallen; how proud they once were of never surrendering their heart!”
آئینہ دیکھ کر وہ شرمندہ ہو کر رہ گئے، حالانکہ پہلے انہیں کسی کو دل نہ دینے پر کتنا غرور تھا۔
اس شعر میں محبوب پر ایک بڑا ہی شوخ اور میٹھا طنز کیا گیا ہے۔ اسے اپنی بے نیازی پر بڑا ناز تھا کہ اس کا دل پتھر ہے اور وہ کبھی کسی کے عشق کے جال میں نہیں آئے گا۔ مگر جوں ہی اس نے آئینے میں اپنی صورت دیکھی، شاید خود اپنے ہی حسن کی دلکشی یا دل کے چور نے اسے لاجواب کر دیا، اور وہ تمام غرور لمحہ بھر میں شرمندگی کی نذر ہو گیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
