شاید کہ مر گیا ترے رخسار دیکھ کر پیمانہ رات ماہ کا لبریز نور تھا

“Perhaps it perished upon catching sight of your radiant cheek; last night, the chalice of the moon brimmed over with light.”

— مرزا غالب
معنی

رات چاند کا پیمانہ نور سے لبریز تھا، شاید وہ تمہارے رخسار دیکھ کر ہی مر گیا۔

تشریح

شاعر نے اس شعر میں محبوب کے چہرے کی تابناکی کو ایک لاجواب استعارے میں ڈھالا ہے۔ اردو روایت میں 'پیمانہ لبریز ہونا' دراصل عمر تمام ہونے اور زندگی کے اختتام کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ چودھویں کا چاند جو کل رات نور سے چھلک رہا تھا، دراصل وہ تمہارے رخسار کی تاب نہ لا سکا اور حسن کی اسی بے پناہ خیرگی کے صدمے سے دم توڑ گیا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.