“Lightning now takes lessons in burning heat from its very name; this is that very heart whose pen-name once was patience.”
یہ وہی دل ہے جس کا لقب کبھی صبر و تحمل تھا، مگر اب بجلی بھی اس کے نام سے تپش اور جلن کا سبق لیتی ہے۔
شاعر دل کی حالت میں آنے والے ایک دردناک اور حیران کن انقلاب کا ذکر کر رہے ہیں۔ یہ وہی دل ہے جو کبھی خاموشی اور صبر کا پیکر تھا، گویا اس کی پہچان ہی 'صبور' یعنی صبر کرنے والا تھی، مگر محبت کے غم نے اسے اس حد تک سلگا دیا ہے کہ اب آسمانی بجلی بھی تپش کا سبق اسی کے نام سے لیتی ہے۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ جب انتہا درجے کا صبر ٹوٹتا ہے تو وہ دنیا کی سب سے تیز آگ بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
