“To passion's frailty in fever's heat, even the door lay far; within the home, a wilderness in miniature was surely there.”
جنون کی کمزوری اور تپش کے عالم میں گھر کا دروازہ بھی بہت دور لگتا تھا؛ اس گھر کے اندر ہی یقیناً ایک مختصر سا بیابان موجود تھا۔
اس شعر میں جنونِ عشق کی شدت اور عاشق کی بے بس ناتوانی کا بڑا دلکش نقشہ کھینچا گیا ہے۔ دیوانگی کی روایت تو یہ ہے کہ عاشق ویرانوں اور صحراؤں کی طرف نکل جائے، مگر عشق کی تپش نے اسے اتنا کمزور کر دیا کہ کمرے کا دروازہ بھی کوسوں دور دکھائی دینے لگا۔ چنانچہ اس کی تنہائی اور دل کے اجاڑ پن نے گھر کی چار دیواری کے اندر ہی ایک مختصر سا بیاباں برپا کر دیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
