غزل
واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے
واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے
یہ غزل عاشق اور سنگ دل محبوب کی متضاد کیفیات اور کشمکش کی ترجمانی کرتی ہے، جہاں قاتل محبوب کے ارادے کچھ اور ہیں اور نیم بسمل عاشق کی تمنائیں کچھ اور۔ اس میں وصل کی بے تابانہ آرزو اور محبوب کے بدلتے ہوئے تیور سے جنم لینے والی بے بسی اور تذبذب کا درد انگیز بیان ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
वाँ इरादा आज उस क़ातिल के दिल में और है
और यहाँ कुछ आरज़ू बिस्मिल के दिल में और है
واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے
اور یہاں کچھ آرزو بسمل کے دل میں اور ہے
وہاں آج اس قاتل کے دل میں کچھ اور ہی ارادہ ہے، جبکہ یہاں اس تڑپتے ہوئے بسمل کے دل میں کوئی دوسری ہی تمنا ہے۔
2
वस्ल की ठहरावे ज़ालिम तो किसी सूरत से आज
वर्ना ठहरी कुछ तिरे माइल के दिल में और है
وصل کی ٹھہراوے ظالم تو کسی صورت سے آج
ورنہ ٹھہری کچھ ترے مائل کے دل میں اور ہے
اے ظالم! آج کسی نہ کسی طرح ہمارے ملن کا فیصلہ کر لے، ورنہ تیرے عاشق (مائل) کے دل میں کچھ اور ہی ارادہ ٹھہر چکا ہے۔
3
है हिलाल ओ बद्र में इक नूर पर जो रौशनी
दिल में नाक़िस के है वो कामिल के दिल में और है
ہے ہلال و بدر میں اک نور پر جو روشنی
دل میں ناقص کے ہے وہ کامل کے دل میں اور ہے
اگرچہ ہلال اور پورے چاند میں ایک ہی نور ہوتا ہے، لیکن جو روشنی ایک ناقص انسان کے دل میں ہوتی ہے وہ کامل شخص کے دل میں بالکل مختلف ہوتی ہے۔
4
पहले तो मिलता है दिलदारी से क्या क्या दिलरुबा
बाँधता मंसूबे फिर वो मिल के दिल में और है
پہلے تو ملتا ہے دل داری سے کیا کیا دل ربا
باندھتا منصوبے پھر وہ مل کے دل میں اور ہے
پہلے تو محبوب بڑی دل داری اور محبت سے ملتا ہے، لیکن ملنے کے بعد اپنے دل میں کچھ اور ہی منصوبے بناتا ہے۔
5
है मुझे बाद-अज़-सवाल-ए-बोसा ख़्वाहिश वस्ल की
ये तमन्ना एक इस साइल के दिल में और है
ہے مجھے بعد از سوال بوسہ خواہش وصل کی
یہ تمنا ایک اس سائل کے دل میں اور ہے
بوسہ مانگنے کے بعد اب مجھے ملن کی خواہش ہے، اس سائل کے دل میں یہ ایک اور تمنا موجود ہے۔
6
गो वो महफ़िल में न बोला पा गए चितवन से हम
आज कुछ उस रौनक़-ए-महफ़िल के दिल में और है
گو وہ محفل میں نہ بولا پا گئے چتون سے ہم
آج کچھ اس رونق محفل کے دل میں اور ہے
اگرچہ وہ محفل میں کچھ نہیں بولے، لیکن ہم ان کی نظروں کے انداز سے سمجھ گئے کہ آج اس رونقِ محفل کے دل میں کوئی اور ہی بات ہے۔
7
यूँ तो है वो ही दिल-ए-आलम के दिल में ऐ 'ज़फ़र'
उस का आलम मर्द-ए-साहब दिल के दिल में और है
یوں تو ہے وہ ہی دل عالم کے دل میں اے ظفرؔ
اس کا عالم مرد صاحب دل کے دل میں اور ہے
اے ظفر، اگرچہ خدا ساری کائنات کے دل میں بستا ہے، لیکن کسی صاحبِ دل اور عارف کے دل میں اس کا جلوہ اور حال بالکل ہی الگ ہوتا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
