“Though He abides in the heart of all creation, O Zafar; within the heart of the enlightened soul, His realm is truly something apart.”
اے ظفر، اگرچہ خدا ساری کائنات کے دل میں بستا ہے، لیکن کسی صاحبِ دل اور عارف کے دل میں اس کا جلوہ اور حال بالکل ہی الگ ہوتا ہے۔
ظفرؔ نے اس شعر میں لفظ ’عالم‘ کے خوبصورت معنوی تلازمے سے بات کہی ہے؛ عالم یعنی یہ کائنات بھی اور ایک مسحور کن کیفیت بھی۔ وہ سمجھاتے ہیں کہ خدا تو کائنات کے ہر ذی روح کے دل میں موجود ہے، مگر جو شخص ’صاحبِ دل‘ ہے—جس کا دل عشق اور بصیرت سے منور ہے—اس کے باطن میں اُس جلوے کا رنگ ہی نرالا ہوتا ہے۔ عام سینوں میں تو وہ محض ایک دھڑکن کی طرح ہے، لیکن ایک عارف کے دل میں وہ خود ایک تابناک اور سحر انگیز جہان بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
