“Settle somehow on our union today, O cruel one; / Else, something quite different is resolved in your lover's heart.”
اے ظالم! آج کسی نہ کسی طرح ہمارے ملن کا فیصلہ کر لے، ورنہ تیرے عاشق (مائل) کے دل میں کچھ اور ہی ارادہ ٹھہر چکا ہے۔
اس شعر میں عاشق اپنے بے نیاز محبوب کو محبت بھری مگر دو ٹوک دھمکی دے رہا ہے کہ آج کسی نہ کسی طرح وصل کی کوئی صورت نکال لو۔ ورنہ عاشق کے دل نے کچھ اور ہی ٹھان رکھا ہے، جس کا اشارہ شاید خود کو مٹا دینے یا ہمیشہ کے لیے تعلق توڑ لینے کے کسی انتہائی قدم کی طرف ہے۔ یہ شعر ہجر کی اذیت سے تنگ آئے ہوئے دل کی بے قراری اور جنون کو کمال خوبصورتی سے ظاہر کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
