وصل کی ٹھہراوے ظالم تو کسی صورت سے آج ورنہ ٹھہری کچھ ترے مائل کے دل میں اور ہے

“Settle somehow on our union today, O cruel one; / Else, something quite different is resolved in your lover's heart.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

اے ظالم! آج کسی نہ کسی طرح ہمارے ملن کا فیصلہ کر لے، ورنہ تیرے عاشق (مائل) کے دل میں کچھ اور ہی ارادہ ٹھہر چکا ہے۔

تشریح

اس شعر میں عاشق اپنے بے نیاز محبوب کو محبت بھری مگر دو ٹوک دھمکی دے رہا ہے کہ آج کسی نہ کسی طرح وصل کی کوئی صورت نکال لو۔ ورنہ عاشق کے دل نے کچھ اور ہی ٹھان رکھا ہے، جس کا اشارہ شاید خود کو مٹا دینے یا ہمیشہ کے لیے تعلق توڑ لینے کے کسی انتہائی قدم کی طرف ہے۔ یہ شعر ہجر کی اذیت سے تنگ آئے ہوئے دل کی بے قراری اور جنون کو کمال خوبصورتی سے ظاہر کرتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.