“After begging for a kiss, it is union that I crave; there stirs yet another desire in this beggar's heart.”
بوسہ مانگنے کے بعد اب مجھے ملن کی خواہش ہے، اس سائل کے دل میں یہ ایک اور تمنا موجود ہے۔
اس شعر میں عاشق نے خود کو محبت کے در پر کھڑا ایک ایسا سائل قرار دیا ہے جس کی مانگ کبھی ختم نہیں ہوتی۔ پہلے تو اس نے فقط ایک بوسے کی التجا کی تھی، مگر دل کی بے تاب طمع دیکھیے کہ اب وہ مکمل وصل کی آرزو پر مچل رہا ہے۔ یہ دراصل انسانی چاہت کی خوبصورت بے صبری ہے، جہاں قربت کا ایک قطرہ ملنے پر پیاس بجھنے کے بجائے پورے سمندر کی طلب جاگ اٹھتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
