“At first with such fond tenderness the charmer comes to meet, yet having met, what different schemes within that heart compete!”
پہلے تو محبوب بڑی دل داری اور محبت سے ملتا ہے، لیکن ملنے کے بعد اپنے دل میں کچھ اور ہی منصوبے بناتا ہے۔
اس شعر میں محبوب کی دلفریب شوخی اور اس کے دوہرے انداز کو بڑی نزاکت سے بیان کیا گیا ہے۔ عاشق کہتا ہے کہ ملتے وقت تو دلربا ایسی اپنائیت اور دلجوئی دکھاتا ہے کہ سارا دل اس پر نثار ہو جائے، مگر ملنے کے فوراً بعد اس کے باطن میں کوئی نیا ہی منصوبہ چل رہا ہوتا ہے۔ یہ معاملہ بندی کا خوبصورت عکس ہے جہاں ظاہر کی بے پناہ محبت کے پردے میں چھیڑ چھاڑ اور بے اعتباری چھپی رہتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
