غزل
شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلف
شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلف
اس غزل میں محبوب کی سیاہ اور پُرکشش زلفوں کے حسن کو نہایت پرتاثیر انداز میں سراہا گیا ہے۔ شاعر نے شانے اور کعبے کے غلاف جیسی دلکش تشبیہات کے ذریعے زلفِ یار کے سحر اور عاشق کے دل پر اس کے گہرے اثرات کی تصویر کشی کی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
शाने की हर ज़बाँ से सुने कोई लाफ़-ए-ज़ुल्फ़
चीरे है सीना रात को ये मू-शिगाफ़-ए-ज़ुल्फ़
شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلف
چیرے ہے سینہ رات کو یہ موشگاف زلف
کنگھی کے ہر دندانے سے کوئی زلف کی شیخی اور خود ستائی سنے، کیونکہ یہ باریک بیں اور موشگاف زلف رات کو سینہ چاک کر دیتی ہے۔
2
जिस तरह से कि काबे पे है पोशिश-ए-सियाह
इस तरह इस सनम के है रुख़ पर ग़िलाफ़-ए-ज़ुल्फ़
جس طرح سے کہ کعبہ پہ ہے پوشش سیاہ
اس طرح اس صنم کے ہے رخ پر غلاف زلف
جس طرح کعبہ پر سیاہ غلاف چڑھا ہوتا ہے، بالکل اسی طرح اس محبوب کے چہرے پر اس کی زلفوں کا پردہ پڑا ہوا ہے۔
3
बरहम है इस क़दर जो मिरे दिल से ज़ुल्फ़-ए-यार
शामत-ज़दा ने क्या किया ऐसा ख़िलाफ़-ए-ज़ुल्फ़
برہم ہے اس قدر جو مرے دل سے زلف یار
شامت زدہ نے کیا کیا ایسا خلاف زلف
محبوب کی زلفیں میرے دل سے اس قدر ناراض اور برہم کیوں ہیں؟ آخر اس بدقسمت دل نے زلف کے خلاف ایسا کیا کام کر دیا ہے؟
4
मतलब न कुफ़्र ओ दीं से न दैर ओ हरम से काम
करता है दिल तवाफ़-ए-इज़ार ओ तवाफ़-ए-ज़ु़ल्फ़
مطلب نہ کفر و دیں سے نہ دیر و حرم سے کام
کرتا ہے دل طواف عذار و طواف زلف
مجھے کفر و دین سے کوئی غرض ہے اور نہ ہی مندر و مسجد سے کوئی واسطہ؛ میرا دل تو صرف محبوب کے رخسار اور اس کی زلفوں کا طواف کرتا رہتا ہے۔
5
नाफ़-ए-ग़ज़ाल-ए-चीं है कि है नाफ़ा-ए-ततार
क्यूँकर कहूँ कि है गिरह-ए-ज़ुल्फ़ नाफ़-ए-ज़ुल्फ़
ناف غزال چیں ہے کہ ہے نافۂ تتار
کیونکر کہوں کہ ہے گرہ زلف ناف زلف
کیا یہ چین کے ہرن کی ناف (مشک) ہے یا تاتار کا مشک؟ میں بھلا یہ کیسے کہہ دوں کہ زلف کی یہ گرہ محض زلف کی ناف ہے۔
6
आपस में आज दस्त-ओ-गरेबाँ है रोज़ ओ शब
ऐ मेहर-वश ज़री का नहीं मू-ए-बाफ़-ए-ज़ुल्फ़
آپس میں آج دست و گریباں ہے روز و شب
اے مہروش زری کا نہیں موئے باف زلف
آج دن اور رات آپس میں دست و گریبان ہیں؛ اے سورج جیسے چہرے والے محبوب، کیا تمہاری زلفوں کو باندھنے والا فیتہ سنہری زری کا نہیں ہے؟
7
कहता है कोई जीम कोई लाम ज़ुल्फ़ को
कहता हूँ मैं 'ज़फ़र' कि मुसत्तह है काफ़-ए-ज़ुल्फ़
کہتا ہے کوئی جیم کوئی لام زلف کو
کہتا ہوں میں ظفرؔ کہ مسطح ہے کاف زلف
کوئی محبوب کی زلف کو حرف ’جیم‘ کہتا ہے اور کوئی ’لام‘، مگر ظفر کہتے ہیں کہ پھیلی ہوئی زلف حرف ’کاف‘ کی مانند ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
