“No concern have I with faith or heresy, no business with temple or shrine; my heart circumambulates only the beloved's cheek, and tresses divine.”
مجھے کفر و دین سے کوئی غرض ہے اور نہ ہی مندر و مسجد سے کوئی واسطہ؛ میرا دل تو صرف محبوب کے رخسار اور اس کی زلفوں کا طواف کرتا رہتا ہے۔
اس شعر میں عاشق روایتی کفر و دیں اور دیر و حرم کے تمام تر جھگڑوں سے آزاد ہو کر عشق کے سچے رنگ میں رنگا نظر آتا ہے۔ اس کے نزدیک سب سے بڑی عبادت کسی مذہبی عمارت میں نہیں بلکہ اپنے محبوب کے جلوؤں میں ہے۔ دل کسی اور مقام کے بجائے محبوب کے روشن چہرے اور دلکش زلفوں کا طواف کرتا ہے، یعنی محبت ہی اس کا اصل دین اور واحد سجدہ بن چکی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
