“Some liken her curling tresses to the letter 'Jeem', and some to 'Laam', / But I say, 'Zafar', that the sweep of her locks is the letter 'Kaaf'.”
کوئی محبوب کی زلف کو حرف ’جیم‘ کہتا ہے اور کوئی ’لام‘، مگر ظفر کہتے ہیں کہ پھیلی ہوئی زلف حرف ’کاف‘ کی مانند ہے۔
اردو شاعری میں محبوب کی لہراتی اور گھنگھریالی زلفوں کو ان کے خم کی مناسبت سے عموماً 'جیم' یا 'لام' جیسے حروف سے تشبیہ دی جاتی رہی ہے۔ مگر بہادر شاہ ظفرؔ اپنی الگ بات کہتے ہیں کہ ان کی نگاہ میں یہ زلف کھنچے ہوئے اور ہموار 'کاف' کی مانند ہے۔ لفظ 'مسطح' کے ذریعے انہوں نے زلف کے صرف پیچ و تاب کو نہیں، بلکہ اس کے شاندار، لمبے اور پھیلے ہوئے دلکش حسن کو نہایت خوبصورتی سے سراہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
