“Just as upon the Kaaba rests a mantle dark and deep, across the face of this beloved, the veiling tresses sweep.”
جس طرح کعبہ پر سیاہ غلاف چڑھا ہوتا ہے، بالکل اسی طرح اس محبوب کے چہرے پر اس کی زلفوں کا پردہ پڑا ہوا ہے۔
اس شعر میں شاعر نے عشقِ مجازی کو عقیدت کے پرنور پیرائے میں خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ جس طرح خانہ کعبہ سیاہ پوشش یعنی غلافِ کعبہ سے ڈھکا ہوتا ہے، بالکل اسی طرح محبوب کے روشن چہرے پر اس کی کالی زلفوں کا غلاف پڑا ہوا ہے۔ محبوب کے حسن کو کعبے کی تقدیس سے تشبیہ دے کر شاعر یہ بتانا چاہتا ہے کہ اس کے لیے اپنے محبوب کا دیدار ہی سب سے بڑی عبادت بن چکا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
