“From every tongue of the comb, let one hear the boast of her tresses; tearing the breast wide open at night, this hair-splitting grace of her locks.”
کنگھی کے ہر دندانے سے کوئی زلف کی شیخی اور خود ستائی سنے، کیونکہ یہ باریک بیں اور موشگاف زلف رات کو سینہ چاک کر دیتی ہے۔
شاعر نے کتنا خوبصورت خیال باندھا ہے کہ کنگھی کا ہر دندانہ گویا ایک زبان بن چکا ہے جو محبوب کی زلفوں کی تعریف میں نغمہ سرا ہے۔ مگر یہ زلفیں جتنی دلکش ہیں، اتنی ہی قاتل بھی ہیں۔ رات کے سناٹے میں جب ان موشگاف اور نازک لٹوں کا تصور ابھرتا ہے، تو وہ عاشق کے دل و سینے کو تڑپ اور فراق کے درد سے چیر کر رکھ دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
