شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلف چیرے ہے سینہ رات کو یہ موشگاف زلف

“From every tongue of the comb, let one hear the boast of her tresses; tearing the breast wide open at night, this hair-splitting grace of her locks.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

کنگھی کے ہر دندانے سے کوئی زلف کی شیخی اور خود ستائی سنے، کیونکہ یہ باریک بیں اور موشگاف زلف رات کو سینہ چاک کر دیتی ہے۔

تشریح

شاعر نے کتنا خوبصورت خیال باندھا ہے کہ کنگھی کا ہر دندانہ گویا ایک زبان بن چکا ہے جو محبوب کی زلفوں کی تعریف میں نغمہ سرا ہے۔ مگر یہ زلفیں جتنی دلکش ہیں، اتنی ہی قاتل بھی ہیں۔ رات کے سناٹے میں جب ان موشگاف اور نازک لٹوں کا تصور ابھرتا ہے، تو وہ عاشق کے دل و سینے کو تڑپ اور فراق کے درد سے چیر کر رکھ دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.