“Today day and night are locked in hand-to-hand strife; / O sun-faced love, is the ribbon of your dark tresses not spun of gold?”
آج دن اور رات آپس میں دست و گریبان ہیں؛ اے سورج جیسے چہرے والے محبوب، کیا تمہاری زلفوں کو باندھنے والا فیتہ سنہری زری کا نہیں ہے؟
یہاں شاعر نے محبوب کے گیسوؤں کے سنگھار کو کیا ہی خوبصورت اور اچھوتا تخیل بخشا ہے۔ محبوب کی سیاہ زلفیں رات کا استعارہ ہیں اور ان میں گندھا ہوا زری کا سنہرا فیتہ دن کے اجالے کی طرح چمک رہا ہے۔ ان دونوں کو باہم لپٹا دیکھ کر یوں گمان ہوتا ہے جیسے حسن کے میدان میں دن اور رات خود ایک دوسرے سے دست و گریباں ہو گئے ہوں۔ ایک سادے سے سنگھار کو آفاقی تصادم کے طلسماتی منظر میں بدل دینا اس شعر کی اصل جان ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
