غزل

نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا

نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا
بہادر شاہ ظفر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل دنیاوی جاہ و جلال اور رسمی درویشی دونوں سے بے نیازی برتتے ہوئے عشقِ حقیقی اور مکمل سپردگی کو سراہتی ہے۔ شاعر صرف اتنے ہوش کا طلب گار ہے کہ محبوب کی چاہ میں وارفتہ رہے، اور کتابی علم کے بجائے محبوب کے فرمان کو دل پر نقشِ لازوال سمجھتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
न दरवेशों का ख़िर्क़ा चाहिए न ताज-ए-शाहाना मुझे तो होश दे इतना रहूँ मैं तुझ पे दीवाना
نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا مجھے تو ہوش دے اتنا رہوں میں تجھ پہ دیوانا
مجھے نہ تو درویشوں کا لبادہ چاہیے اور نہ ہی بادشاہوں کا شاہی تاج، بس مجھے اتنا ہوش عطا کر کہ میں تیری محبت میں دیوانہ بنا رہوں۔
2
किताबों में धरा है क्या बहुत लिख लिख के धो डालीं हमारे दिल पे नक़्श-ए-कल-हज्र है तेरा फ़रमाना
کتابوں میں دھرا ہے کیا بہت لکھ لکھ کے دھو ڈالیں ہمارے دل پہ نقش کالجحر ہے تیرا فرمانا
کتابوں میں کچھ نہیں رکھا، ہم نے تو بہت کچھ لکھ لکھ کر مٹا دیا ہے، لیکن آپ کا فرمانا ہمارے دل پر پتھر کی لکیر کی طرح کندہ ہے۔
3
ग़नीमत जान जो दम गुज़रे कैफ़ियत से गुलशन में दिए जा साक़ी-ए-पैमाँ-शिकन भर भर के पैमाना
غنیمت جان جو دم گزرے کیفیت سے گلشن میں دئے جا ساقیٔ پیماں شکن بھر بھر کے پیمانا
باغ میں جو لمحہ بھی مستی اور سرور میں گزر جائے اسے غنیمت سمجھ، اور اے وعدہ توڑنے والے ساقی، تو بس جام بھر بھر کر پلاتا جا۔
4
न देखा वो कहीं जल्वा जो देखा ख़ाना-ए-दिल में बहुत मस्जिद में सर मारा बहुत सा ढूँडा बुत-ख़ाना
نہ دیکھا وہ کہیں جلوہ جو دیکھا خانۂ دل میں بہت مسجد میں سر مارا بہت سا ڈھونڈا بت خانا
جو جلوہ میں نے اپنے دل کے اندر دیکھا وہ مجھے کہیں اور نظر نہ آیا، خواہ میں نے مسجد میں کتنا ہی سر پٹکا اور بت خانے میں کتنا ہی ڈھونڈا۔
5
कुछ ऐसा हो कि जिस से मंज़िल-ए-मक़्सूद को पहुँचूँ तरीक़-ए-पारसाई होवे या हो राह-ए-रिंदाना
کچھ ایسا ہو کہ جس سے منزل مقصود کو پہنچوں طریق پارسائی ہووے یا ہو راہ رندانا
کچھ ایسی صورت بن جائے کہ میں اپنے مقصود تک پہنچ جاؤں، خواہ وہ راستہ پرہیزگاری کا ہو یا رندوں کا۔
6
ये सारी आमद-ओ-शुद है नफ़स की आमद-ओ-शुद पर इसी तक आना जाना है न फिर जाना न फिर आना
یہ ساری آمد و شد ہے نفس کی آمد و شد پر اسی تک آنا جانا ہے نہ پھر جانا نہ پھر آنا
یہ ساری چہل پہل اور زندگی کی آمد و رفت صرف سانس کے آنے جانے پر منحصر ہے؛ یہ آنا جانا بس سانس کے برقرار رہنے تک ہے، اس کے بعد نہ کہیں جانا ہے اور نہ واپس آنا۔
7
'ज़फ़र' वो ज़ाहिद-ए-बेदर्द की हू-हक़ से बेहतर है करे गर रिंद दर्द-ए-दिल से हाव-हु-ए-मस्ताना
ظفرؔ وہ زاہد بے درد کی ہو حق سے بہتر ہے کرے گر رند درد دل سے ہاو ہوئے مستانا
ظفر، اگر کوئی رند سچے دل کے درد سے مستی بھری پکار بلند کرے، تو وہ کسی بے درد زاہد کے ہو حق کے ورد سے کہیں بہتر ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.