“Far better than the callous ascetic's hollow, pious cries, O Zafar, is the ecstatic chant a reveler raises from an aching heart.”
ظفر، اگر کوئی رند سچے دل کے درد سے مستی بھری پکار بلند کرے، تو وہ کسی بے درد زاہد کے ہو حق کے ورد سے کہیں بہتر ہے۔
ظفرؔ یہاں ظاہر داری کی بے روح عبادت اور دل کے سچے جذبے کا دلنشیں موازنہ پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک سنگدل زاہد کا دکھاوے کا ذکر اور ہو حق محض کھوکھلا ہے کیونکہ اس میں احساس کی چاشنی نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس اگر ایک مست الست رند اپنے دل کے سچے درد سے پکار اٹھے، تو اس کی یہ بے خودی اس بے جان پارسائی سے ہزار گنا بہتر اور بارگاہِ الٰہی میں قبول ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
